لکھنؤ 20مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کی یوگی حکومت کو 60دن میں 600وارننگ اورپروموشنل اورلیپا پوتی والی حکومت بتاتے ہوئے کانگریس کے لیڈر رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت تو کسانوں کو راحت اور قرض معافی کے نام پر دھوکہ تو دے ہی رہی تھی اب وہی کام اترپردیش کی یوگی حکومت بھی کر رہی ہے۔انہوں نے ریاستی حکومت سے کسانوں کی قرض معافی پر وہائٹ پیپرلانے کا مطالبہ کیا۔
مرکز کی بی جے پی حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر انہوں نے کہا کہ مرکز کے نظرانداز رویہ سے ملک میں 35 کسان روز خود کشی کر رہے ہیں، اور یہ حکومت آزادی کے 70سال بعد کسانوں کو سب سے زیادہ نظراندازکرنے والی حکومت بن گئی ہے۔حکومت نہ کسان سے امدادی قیمت پر اناج خریدتی ہے اور نہ ہی مارکیٹ میں کسانوں کوصحیح دام ملتے ہیں۔بی جے پی نے مرکز میں الیکشن جیتنے کے لیے اپنے منشور میں کہا تھا کہ کسانوں کواخراجات کے50فیصدسے زیادہ امدادی قیمت دی جائے گی مگراقتدار حاصل کرنے کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دے کر کہا کہ اخراجات کا پچاس فیصد سے زیادہ امدادی قیمت کسانوں کو نہیں دی جاسکتی ہے۔انڈین نیشنل کانگریس کے میڈیاانچارج ردیپ سرجیوالا اور ریاستی صدر راج ببر نے کانگریس کے دفتر پر منعقد ایک پریس کانفرنس میں مرکز کی بی جے پی حکومت کے تین سال پورے ہونے پر اسے ہوپ، ساتھ ہی ریاست کی دو ماہ پرانی بی جے پی کی یوگی حکومت کو 60دن میں 600وعدے اور لیپا پوتی والی حکومت بھی بتا ڈالا۔انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں دوکروڑ15لاکھ چھوٹے اور معمولی کسان خاندانوں میں سے صرف 86لاکھ 88ہزار کسان بینکنگ نظام کے دائرے میں ہیں جبکہ دو کروڑ 15لاکھ کسانوں میں سے ایک کروڑ 28لاکھ کسان ساہوکار کے مقروض ہیں انہیں قرض معافی کا ایک پیسہ کا فائدہ نہیں ملاہے۔